Pages

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2013

چائے کا کپ

قسمت کا لکھا بدل نھیں سکتے

ہم اور تم مسلسل مل نھیں سکتے
مگر پھربھی
جب  بھی تم ملے ہو
ہم بھول گئے ہیں
اپنے سارے درد و غم
زند گی کے ستم
نہ جانے کیوں آج دل میں خواہش ہوئی
میں آنکھیں کھولوں اور تم  ہوسامنے
آگے بڑھو مےلو تھامنے
دل کی تھم جاۓ بے قراری
گھر کا سونا پن گم ہو جاۓ
چاۓ کے ایک کپ پہ
پھر ہوں بہت سی باتیں
قصے ادھورے پورے
آنکھوں کے گوشوں میں چھپی شرارت
ہونٹوں میں دبی مسکراہٹ
مگر اک چاۓ کا کپ سامنے رکھے
میں سوچ رہی ہوں
کاش
ابھی آہٹ ہو اور تم آ جاؤ
کاش کہ تم آجاؤ
آج پھر بھت اکیلی لگ رہی ھے زندگی

6 تبصرے:

Unknown نے لکھا ہے کہ

aala

no one نے لکھا ہے کہ

thanks wali

www.lekhari.blogspot.com نے لکھا ہے کہ

اچھا ہے

Asma Khurram نے لکھا ہے کہ

زبر دست جناب!

گمنام نے لکھا ہے کہ

Very well written.

Unknown نے لکھا ہے کہ

بہت خوب

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔