Pages

بدھ، 23 اکتوبر، 2013

کوئی تو ہو




کوئی تو ہو جو لمحے بانٹے۔۔۔
میری تنہائیوں کے دھاگےکاٹے۔۔۔



دکھوں سے چھلنی وجود کے ،
ہر زخم کو اپنی توجہ سے دھوئے۔۔۔
میری حسرتوں پہ میرے ساتھ رؤۓ۔۔۔
پلکوں کی دہلیزوں سے ستاروں کو چنے۔۔۔
دل کی دھڑکنوں کو سنے۔۔۔
پھر وہ پھولوں سے راستے سجاۓ۔۔۔۔
خو شیوں سے آشنا کرواۓ۔۔۔
بادلوں پہ چلنا سکھاۓ۔۔۔
 پنچھیوں سا اڑنا سکھاۓ۔۔۔

کوئی تو ہو۔۔۔


جو میری تنہا ئی سے ۔۔۔۔
مجھے آزاد کرواے۔۔۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔