Pages

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

بنا آگ لگے راکھ





دھواں اٹھا بنا آگ لگے ، 
چوٹ لگی جو دل پر ،
آنکھوں میں کچھ خواب تھے .........  ٹوٹ گئے۔۔۔


زندگی بھرے خوشیوں کے ساحل ،
درد کے سمندر میں ڈوب گئے  ،
امیدوں کی تتلیوں کے سب رنگ چھوٹ گئے.......

جب ہوش آئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پایا خود کو ،
ہجومِ شکستہ دلاں میں ،
اب ہم بھی ہیں شامل انہی ،
نصیبِ حرماں میں ،

اور 

تنہا کھڑے اپنا دل ٹٹولتے ہیں ،
کہ اب جا نی یہ حقیقت ،
پہلو میں جو دل تھا کبھی ،
اب وہا ں راکھ بھی نہ بچی۔۔۔۔۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔