Pages

پیر، 4 نومبر، 2013

ساتھ





تلخی ایام سے تھک کہ جب بھی گری۔۔۔۔
اک خواہش شدت سے بیدار ہوئی ،
پھر حسرتوں میں وہ شما ر ہو ئی ،


کا ش کہ تم تھام لو ہا تھ ہما را ،
گرتے حو صلے کو دو سہارا ،
پھر آںکھیں بند کر کے ،
تمہیں محسوس کرتی ہوں ،

پھر آہ بھر کے اٹھتی ہوں۔۔۔۔۔

سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔

کچھ خواب حقیقت بن نہیں سکتے ،
میں اور تم کبھی ساتھ چل نہیں سکتے ۔۔۔۔



4 تبصرے:

rdugardening.blogspot.com نے لکھا ہے کہ

بہت خوبصورت خیال ہے

وحید سلطان نے لکھا ہے کہ

''کچھ خواب حقیقت بن نہیں سکتے ،
میں اور تم کبھی ساتھ چل نہیں سکتے"

بہت ہی اعلیٰ۔

Unknown نے لکھا ہے کہ

عمدا

Unknown نے لکھا ہے کہ

aap ka kalam parrh kr youn lagta ha jaise aapki shairy suche jazbon ka izhar ho koi tasna ya banwat nehi .....mashallah

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔