تلخی ایام سے تھک کہ جب بھی گری۔۔۔۔
اک خواہش شدت سے بیدار ہوئی ،
کا ش کہ تم تھام لو ہا تھ ہما را ،
گرتے حو صلے کو دو سہارا ،
پھر آںکھیں بند کر کے ،
تمہیں محسوس کرتی ہوں ،
پھر آہ بھر کے اٹھتی ہوں۔۔۔۔۔
سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔
کچھ خواب حقیقت بن نہیں سکتے ،
میں اور تم کبھی ساتھ چل نہیں سکتے ۔۔۔۔

4 تبصرے:
بہت خوبصورت خیال ہے
''کچھ خواب حقیقت بن نہیں سکتے ،
میں اور تم کبھی ساتھ چل نہیں سکتے"
بہت ہی اعلیٰ۔
عمدا
aap ka kalam parrh kr youn lagta ha jaise aapki shairy suche jazbon ka izhar ho koi tasna ya banwat nehi .....mashallah
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔