Pages

پیر، 14 اکتوبر، 2013

یاد یں


میرے ویراں دل میں تیری یادیں،
اماوس کی راتوں کو،
تاروں کے جلو کی طرح۔۔

 چٹکتی چاندنی میں ،
چاند کے چہرے پہ،
بادل کی پر چھا ئیں کی طرح۔۔۔


برستے موسم میں،
آسماں سے گرتے،
موتیوں کی طرح۔۔۔۔


تپتی دوپہروں میں،
گھنے پیڑوں کے،
چھتنار سائیوں کی طرح۔۔۔


ٹھٹھرتی سردیوں میں،
نرم گرم روئی کے،
گالوں کی طرح۔۔۔


ھر موسم تیری یادوں کا ھے،
کس موسم میں کس پل میں ،
اس دل کی ویرانیاں جائیں گی،
تیری یادیں کبھی تو ،
تیری مجسم صورت بن جائیں گی،
اب تو یہ یادیں دیے ھوۓ ھیں سہارا مجھے،
انتظا ر کے لمحوں میں،
سانسوں کی ڈور کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                       عارفہ رانا

1 تبصرے:

no one نے لکھا ہے کہ
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔