مگر پھربھی
جب بھی تم ملے ہو
ہم بھول گئے ہیں
اپنے سارے درد و غم
زند گی کے ستم
نہ جانے کیوں آج دل میں خواہش ہوئی
میں آنکھیں کھولوں اور تم ہوسامنے
آگے بڑھو مےلو تھامنے
دل کی تھم جاۓ بے قراری
گھر کا سونا پن گم ہو جاۓ
چاۓ کے ایک کپ پہ
پھر ہوں بہت سی باتیں
قصے ادھورے پورے
آنکھوں کے گوشوں میں چھپی شرارت
ہونٹوں میں دبی مسکراہٹ
مگر اک چاۓ کا کپ سامنے رکھے
میں سوچ رہی ہوں
کاش
ابھی آہٹ ہو اور تم آ جاؤ
کاش کہ تم آجاؤ
آج پھر بھت اکیلی لگ رہی ھے زندگی

6 تبصرے:
aala
thanks wali
اچھا ہے
زبر دست جناب!
Very well written.
بہت خوب
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔