Pages

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

کبھی ملیں فرصتیں


کبھی جو تمہیں ملیں فر صتیں ،
میرے پاس چلے آؤ۔۔۔۔


یہ گھر ویراں پڑا ہے،
دیواروں میں یادوں کے جالے لگے ہیں،
حسرتوں کی گرد سے اٹا پڑا ہے،
دروازوں کی درزوں سے آتی ،
تمناؤں کی روشنی کی کرنیں ،
اب بے دم ہونے لگی ہیں
اپنا وجود کھونے لگی ہیں

سبھی باتیں جو کہنی ہیں
تمہاری بے رخی کی چادر سے
ڈھکی ہیں


وہ جو اک آئینہ دکھلاتا تھا
عکس تیرا میرا
وقت کی رفتار سے دھندلا گیا ہے


اک آسیب تنہائی کا
میری روح کو کھا گیا ہے


کبھی جو تمہیں ملیں فرصتیں
چلے آؤ گزرتے سال کے جا تے لمحوں میں
 کہ شا ئد کم ہو جا ئیں اس دل کی وحشتیں

1 تبصرے:

Unknown نے لکھا ہے کہ

وہ جو اک آئینہ دکھلاتا تھا
عکس تیرا میرا
وقت کی رفتار سے دھندلا گیا ہے
heart touching poem ha.....mohabat k huseen aur nazak jazbat ko aap jis khosorat andaz me biyan kartien hain wo intahee kable tareef hain......aik aur umdah poem parrh kr buhat acha laga....thx. for sharing

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔