دل کے آنگن میں،
ہوائیں بھی چپ سی ہیں ،
فضا ئیں بھی لب بمہر ،
دھڑکنیں بھی اب کر تی نہیں شور ،
رات میں دیکھا تھا چاند جو پچھلے پہر کا ،
خاموش تھا وہ بھی ،
صبح جو ہوئی تو سورج بھی ،
چپ چاپ اپنے کام میں لگ گیا ،
دھیرے دھیرے رات کا اندھیرا نگل گیا ،
ہوا چلی تو لیکن پتوں کی جھنکار سنائی نہ دی ،
پنچھی چہچہانے لگے مگر ان کی آواز میں ،
چہکار سنائی نہ دی ۔
اور یونہی دن ڈھل گیا چپ چاپ ،
اک دن اور گزر گیا چپ چاپ ،
بنا کسی امید کے
بنا کسی آس کے

3 تبصرے:
زبردست جنابہ۔۔۔خاموشی چیر دی آپ نے
ہوا چلی تو لیکن پتوں کی جھنکار سنائی نہ دی ،
پنچھی چہچہانے لگے مگر ان کی آواز میں ،
چہکار سنائی نہ دی ۔
اور یونہی دن ڈھل گیا چپ چاپ ،
اک دن اور گزر گیا چپ چاپ ،
بنا کسی امید کے
بنا کسی آس کے
BUHAT UMDAH NAZEM LIKHI HA.....JAZBAT K IZHAR AUR APNE ANDHER KI UDASI KO JISS TARAH SORAJ,RAT,PRINDHON KI CHEHCHAHT KO APNE JZBAT K IZHAR K LIE ISTMAL KIA HA WO QABLE TAREEF HA....
بہت اعلٰی،،،،،،،،،،،،، زبردست شاعری۔
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔