Pages

جمعہ، 27 دسمبر، 2013

دل


یہ جو خواہش ہوتی ہے ،
یہ دل کی سازش ہوتی ہے،
جب نہ ملے دل کو من چا ہی چا ہت ،
تو دل کی اس حرکت پر ،
پھوٹ پھوٹ کر ۔۔۔۔۔
روتی تو آنکھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔


مگر اس بات سے بے پرواہ ،
پچھلی مسافت کی تھکن بھول کر،
یہ نئی خواہشیں چنتا ہے ،
پھر ان کےخواب بنتا ہے ،
پھر بے وفائی سے چور ،
وجود کے بے جان لاشے کو،
بے سمت راہوں پہ لے چلتا ہے،
اور دل کی اس بے وقوفی پہ ،
روتی تو آنکھ ہے،

لیکن پھر بھی یہ باز نہیں آتا
اس کو صبر کا انداز نہیں آتا

کیوںکہ یہ نادان تو صرف خواہش کرتا ہے،
اس کو کیا فرق پڑتا ہے.
 روتی تو آنکھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

2 تبصرے:

Unknown نے لکھا ہے کہ

یہ جو خواہش ہوتی ہے ،
یہ دل کی سازش ہوتی ہے،
یہ نئی خواہشیں چنتا ہے ،
پھر ان کےخواب بنتا ہے ،
پھر بے وفائی سے چور ،
وجود کے بے جان لاشے کو،
بے سمت راہوں پہ لے چلتا ہے،
اور دل کی اس بے وقوفی پہ ،
روتی تو آنکھ ہے،

لیکن پھر بھی یہ باز نہیں آتا
اس کو صبر کا انداز نہیں آتا

کیوںکہ یہ نادان تو صرف خواہش کرتا ہے،
اس کو کیا فرق پڑتا ہے.
روتی تو آنکھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔..buhat hi khobsorat andaz me iss nazim ko aap ne likha ha...aap ki poetry me insan k jazbat ko jis sada aur pur asar andaz me paich kia jata ha wo aap ko badda munfrid makam daiti ha...aik aur lajawab poem share karne par aap ko mubarakbad daita ho

no one نے لکھا ہے کہ

حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔