Pages

اتوار، 11 مئی، 2014

اک اجنبی چاہت



اک اجنبی چاہت۔۔
اک آشنا دکھ۔۔
زندگی دکھا رہی اب مجھے۔۔
جانے اپنا کونسا رخ۔۔۔۔۔


خواب مسلسل میں،،
چاہت کا تسلسل ہے،،
پھر بھی میں تھک گئی۔۔
زندگی اوڑھ کے سونے کی چاہت میں،،
نجانے کیوں رک گئی۔۔

اور جب چلی تو۔۔
یادوں کے سفر میں،،
مٹ گۓ سب ہمراہی،،
حرف غلط مانند۔۔
اورجو آشنا تھے۔۔
 یوں میرے پاس سے گزر گۓ،
دیکھ کر بھی اندیکھا کر گۓ۔۔
جیسے جانتے نہیں، پہچانتے نہیں۔۔

پھر بس تنہائی ہمسفر تھی۔۔
اور میرے سایہ کی مانند۔۔
میرے قدموں سے لپٹی۔۔
اک اجنبی چاہت۔۔
اور اک آشنا دکھ۔۔۔۔




3 تبصرے:

rdugardening.blogspot.com نے لکھا ہے کہ

واہ ، بہت خوب


"اک آشنا دکھ"

کوثر بیگ نے لکھا ہے کہ

خواب مسلسل میں
چاہت کا تسلسل ہے
واہ بہت عمدہ لکها واہ

Muhammad Saleem نے لکھا ہے کہ

بہت خوب، مزید کا انتظار۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔