Pages

منگل، 22 اپریل، 2014

کاش دل اک شجر ہوتا



کاش دل بھی اک شجر ہوتا۔۔۔۔۔
کی ہر بدلتے موسم میں


گرتے پتوں کی طرح
اسکی نرم ٹہنیوں سے
بیتی محبتیں، بیتی یادہں،
بیتے لمحے، بیتی باتیں،
کچھ بے اعتناٰئیاں، کچھ لاپروائیاں،
کچھ بے وجہ شناسائیاں،
کچھ چھو کر گزرنے والوں کی پر چھائیاں،
خزاں رسیدہ ہو کر زمیں پر گرتی،
اور مٹی میں مل جاتی،

پھر نئے موسموں میں۔۔۔
 نئی چاہتوں کی نرم کونپلیں،
نئی الفتوں کے شگوفے،
اور خلوص کے گل کھلتے،
اور دھیرے دھیرے پورے ماحول کو مہکاتے۔۔
اور اسکے گھنیرے سایہ میں پل دو پل،
کچھ اجنبی کچھ شنا سا قدم ،
آتے رکتے اور چلے جاتے۔۔۔


کاش دل بھی اک شجر ہوتا۔۔۔۔۔۔
کاش انسان میں بھی یہ ہنر ہوتا۔۔۔۔


0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔