رفتار ماہ سال سے نکل کر بھی،
گردش حالات سے نکل کر بھی،
تمہارے ساتھ کی شبنمیں سا عتیں،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔
ویراں برآمدوں کی رونق،
کمرے میں ترتیب سے بکھری چیزیں،
ٹوٹے کواڑوں کی دستکیں،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔
کتابوں میں پھولوں کی خوشبو،
امربیل کی شادابی،
اور سوکھے پتوں کی ہریالی
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔
لہجے میں کھنکتی جدائی کا خمار،
آنکھوں سے چھلکتی اداس شوخیاں،
ہونٹو ں سے جھانکتی گیلی مسکراہٹیں،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔
خنک ہواؤں کی گرم سر گوشیاں،
اداس چاندنی کے گونجتے قہقہے،
تشنہ کامی لیے برستی بارشیں،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔
آج پھر اسے دیکھا ہجوم شکستہ دلاں میں،
وہی تجھ سا خمیر محبت میں گندھا چہرہ،
وہی لب و رخسار وہی آنکھیں جو،،،،،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔

2 تبصرے:
وہی لب و رخسار وہی آنکھیں جو،،،،،
بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔
تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت خوب
خنک ہواؤں کی گرم سر گوشیاں، اداس چاندنی کے گونجتے قہقہے، تشنہ کامی لیے برستی بارشیں، بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔ تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔ آج پھر اسے دیکھا ہجوم شکستہ دلاں میں، وہی تجھ سا خمیر محبت میں گندھا چہرہ، وہی لب و رخسار وہی آنکھیں جو،،،،، بہت ستاتی ہیں۔۔۔۔ تمہاری یاد دلاتی ہیں۔۔۔ Buhat khobsort poem ha ,Hijr o wisal k ki kifiat ko aap ne intahai khobsorati se paish ki ha ,poem parrhte youn mehsoos hota ha jaise apni ankhon se manzer daikh rehe ho....ilafaz ka chunao b nehat umdgi se Kia Gia ha......MashAlla
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔