Pages

منگل، 11 فروری، 2014

جدائی




زعم محبت میں ،
سوچا نہ تھا کبھی ،
کہ تم سے جدا ہو کر ،
ھم جی پائیں گے  ،


مگر دیکھ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں بھی وہی ہے ،
آسماں بھی وہی ہے ،
مکیں بھی وہی ہے ،
مکاں بھی وہی ہے ،
مگر تم نہیں ، کہیں بھی نہیں ،
اور ہم تمہا رے بنا جئے جا رہے ہیں،
زہر زندگی کا پئے جا رہے ہیں

2 تبصرے:

گمنام نے لکھا ہے کہ

مگر تم نہیں ، کہیں بھی نہیں ،
اور ہم تمہا رے بنا جئے جا رہے ہیں،
زہر زندگی کا پئے جا رہے ہیں
buhat khobsorat khial ko aap ne nazam me dhala ha....mohabat aik aisa Latif jazba ha jun insan iss k dashat se guzar raha hota ha tu wo iss qadber iss me kho jata ha k wo taswar karta ha k apni mohbat k bagair wo ab ji na pae ga, mager ye dunya ki talkh haqeeqat ha k aksar wo jis k bagair jeene ka taswar b nehi karta usse uss k bagair jeena parrhta ha aur wo mager ye b haqeeqat ha gamon ka bojh insan ko ander se torr kr rakh daita ha mager usse apni baki zindgi hijar k sehra me guzarana parrhti ha......aur ussi jagah per aur unhi manaazer me jeena parrhta ha ,aap ne judaee k iss karb ko baddi hi umdhgi se biyan kia ha ،
سوچا نہ تھا کبھی ،
کہ تم سے جدا ہو کر ،
ھم جی پائیں گے ،
مگر دیکھ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں بھی وہی ہے ،
آسماں بھی وہی ہے ،
مکیں بھی وہی ہے ،
مکاں بھی وہی ہے ،

rdugardening.blogspot.com نے لکھا ہے کہ

مکیں بھی وہی ہے ،
مکاں بھی وہی ہے ،
مگر تم نہیں ، کہیں بھی نہیں
................

واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔