حروف کا جنگل ڈرا رہا ہے،
مجھے ذرا اذن بیان دے ۔۔
کہ میں کہہ سکوں تیرے روبرو
میرے خواب سارے بکھر گئے۔۔۔۔۔
چاہا تھا میں نے ان خوابوں میں کہ,
جگنو چنتے ہیں راتوں میں..
ہاتھوں کو لے کر ہا تھوں میں..
یا پھر رقص عشق کریں,
مستی گل کے ساتھ جھومیں..
تتلیوں کی سی بے چینی،
خود میں سموئے گھومیں۔۔
گھٹاؤں کی دھنک کو بنا کر جھولا
ھم ان کے ساتھ ہی ہو لیں۔۔۔
یا ساکت پانیوں کی جھیل میں،
دیکھیں عکس اپنا۔۔۔
اور پھر اس میں مار کر پتھر،
دیکھیں رقص اپنا۔۔۔۔
یا پربتوں پر جہاں چھوتا ہے ابر،
وہاں سے چرائیں لمس کی نمی۔۔
ادا کریں یوں نماز عشق،
کہ رہ نہ جائے کوئی کمی۔۔
لیکن سن اے بے خبر۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خواب سارے بکھر گئے۔۔
اب تو رہ گئی شعور میں،
بس صحرا کی پر شور
ہوائیں۔۔
جو میرے بکھرے خوابوں کو،
مانند ریت اڑائیں۔۔
اور اس طوفانِ بازگشت میں
سانسوں کے خیمے اکھڑ گئے
میرے خواب سارے بکھر گئے۔۔۔۔۔۔۔

2 تبصرے:
لیکن سن اے بے خبر۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خواب سارے بکھر گئے۔۔
بہت اعلیٰ
اب تو رہ گئی شعور میں،
بس صحرا کی پر شور ہوائیں۔۔
جو میرے بکھرے خوابوں کو،
مانند ریت اڑائیں۔۔
اور اس طوفانِ بازگشت میں
سانسوں کے خیمے اکھڑ گئے
میرے خواب سارے بکھر گئے۔۔۔۔۔۔۔
aap buhat khobsorati se ilfaz ka chinao karti hain aur phir unhien apne khialat me pro kr nazim ki shakal me baddi umdgi se poetry ka roop de daiti hian...mashallah
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔