یہ جو بے نام سی اداسی ،
گھیرے ہوئے ہے دل کو ،
اسے کیا نام دوں۔۔۔۔
یہ جو بے رنگ سے آنسو ،
ہیں ما نند باراں برس رہے ،
انہیں کیا رنگ دوں۔۔۔۔۔
یہ جو بے ربط سی سوچیں ،
بھنور کیے ہیں میجھے ،
انہیں کیسے ربط دوں۔۔۔۔
یہ بے کیف سے لمحے ،
جو سایہ فگن ہیں مجھ پہ ،
انہیں کیسے سرور دوں۔۔۔
یہ جو بے موسم اداسی ،
جو ڈالے ہے دل میں ڈیرے ،
اسے کیسے دور کروں۔۔۔۔
یہ جو بے آباد سی ویرانی ،
بنائے ہے میری زندگی کو سرائے ،
اسے کیسے آباد کروں۔۔۔۔
یہ جو تنہائی کی خوشی،
گھیرے رہتی ہے مجمع میں مجھے،
اسے کیسے ناشاد کروں۔۔۔
یہ جو زندگی تمھارے بعد ،
بلا عنوان ہو گئی ہے ،
اسے کیا عنوان دوں۔۔۔۔

3 تبصرے:
شاپنگ پر تشریف لے جائیں، سب اداسی وغیرہ دُھل جائے گی انشاء اللہ۔
یہ جو زندگی تمھارے بعد ،
بلا عنوان ہو گئی ہے ،
اسے کیا عنوان دوں۔۔۔۔
،،،،،،،،،،،،
واہ بہت خوبصورت
یہ جو تنہائی کی خوشی،
گھیرے رہتی ہے مجمع میں مجھے،
اسے کیسے ناشاد کروں۔۔۔
یہ جو زندگی تمھارے بعد ،
بلا عنوان ہو گئی ہے ،
اسے کیا عنوان دوں۔۔۔۔...wah ji buhat khoob..اآپ کی پہلی نظموں کے بر عکس اس نظم میں انداز بڑآ منفرد ہے۔اآپ نے خود سے وہ سوال کر دئیے ہیں جن کا جواب بھی انہی سوالوں میں میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ایک خوبصورت ںظم پڑھ کر بہت اچھالگا۔
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔