Pages

ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

واپسی

بے آواز دستک پر
جب بھی کھولا دروازہ
سامنے تمہی کو پایا
ہر بار کی طرح اس بار بھی
لوٹے تم میری ہی جانب۔۔۔۔۔۔۔۔


پچھلے سفر کی گرد
چہرے کی ندامت میں سمیٹے
 ہر بار کی طرح اس بار بھی
میرے زانوں پر سر رکھ کر
میرے آنچل میں سمٹ کر
اک بار پھرسے مجھ سے 
عہد محبت کی تجدید لے کر
تازہ دم ہو لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر سے چل دیۓ اک نۓ سفر پر
اک گھاؤ دے کر میرے دل کو
اک زخم دے کر میری روح کو
نئی جدائی کا ۔ نئی نارسائی کا
اور اک زمانہ تنہائی کا۔۔۔۔۔۔

میں رہ گئی وہیں کواڑ تھامے
تمھارے جاتے قدموں کو تکتے
پلو میں باندھےبس اسی یقیں کو
کہ جب بھی لوٹو گے میرے پاس ہی لوٹو گے
اور پھر اسی لمحے میں جیتی رہتی ہوں
جب آکر تم کہتے ہو
سمیٹ لو مجھکو بکھر گیا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔